23 فروری 2015 - 19:42
حتمی سمجھوتے کے لیے ابھی بہت راستہ باقی: ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جنیوا مذاکرات میں بعض معاملات میں کسی حد تک پیشرفت ہوئي ہے لیکن حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت راستہ طے کرنا باقی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد طریف نے جنیوا میں امریکی حکام کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے اختتام پر نامہ نگاروں کے سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ تین روز کے دوران ہم نے گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک خاص طور پر امریکہ کے ساتھ سنجیدہ، مفید اور تعمیری مذاکرات انجام دیے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور وزیر توانائی بھی شریک تھے- انھوں نے کہا کہ بعض معاملات میں کسی حد تک پیشرفت ہوئی ہے لیکن حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت سا راستہ طے کرنا باقی ہے- ڈاکٹر جواد ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک تمام مسائل پر اتفاق رائے نہیں ہو جاتا کسی بھی معاملے میں اتفاق رائے نہیں گا- اس بنا پر مذاکرات جاری رہیں گے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے ایک بار پھر انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر ان مذاکرات کو جاری رکھیں گے- اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے وزرائے خارجہ جواد ظریف اور جان کیری کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور پیر کے روز جنیوا کے ہوٹل ولسن میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے منعقد ہوا- ان مذاکرات میں پہلے اور دوسرے دور کے مذاکرات کی مانند ایران کے اٹیمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی، امریکہ کے وزیر توانائی ارنسٹ مونیز اور اسی طرح دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی- ایران اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات پیر کے روز جنیوا میں ختم ہو گئے- دوسری جانب وزیرخارجہ جواد ظریف جنیوا میں امریکی حکام سے مذاکرات کے کئي دور انجام دینے کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی رات بغداد پہنچ رہے ہيں جہاں وہ عراقی وزیرخارجہ ابراہیم جعفری اور وزیراعظم حیدرالعبادی کے ساتھ باہمی دلچسپی کے معاملات اور عراق اور خطے کی سیکورٹی کی صورتحال پر بات چیت کریں گے -جبکہ ایران کے نائب وزیرخارجہ اور سینئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹرجنرل یوکیا آمانو سےبات چیت کے لئے جنیوا سے ہی ویانا پہنچ رہے ہیں.

.......

/169